سنن الدارقطني
كتاب الجنائز— جنازوں کا بیان
بَابُ وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى وَرَفْعِ الْأَيْدِي عِنْدَ التَّكْبِيرِ باب: (نماز جنازہ کے دوران) دایاں ہاتھ بائیں پر رکھنا ‘ تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کرنا
حدیث نمبر: 1834
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَامِدٍ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الرَّمَادِيُّ ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ثنا الْعَلاءُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَلْمَانَ ، قَالَ : " صَلَّى زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُلْنَا لَهُ : وُهِمْتَ أَمْ عَمْدًا ؟ قَالَ : بَلْ عَمْدًا ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهَا " .محمد محی الدین
ابوسلمان بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی، تو انہوں نے پانچ مرتبہ تکبیر کہی، جب انہوں نے سلام پھیرا، تو ہم نے ان سے کہا: ”آپ نے غلطی سے ایسا کیا ہے یا جان بوجھ کر کیا ہے؟“ تو انہوں نے بتایا: ”جان بوجھ کر کیا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح اسے ادا کیا کرتے تھے۔“