سنن الدارقطني
كتاب الجنائز— جنازوں کا بیان
بَابُ التَّسْلِيمِ فِي الْجِنَازَةِ وَاحِدًا وَالتَّكْبِيرِ أَرْبَعًا وَخَمْسًا وَقِرَاءَةَ الْفَاتِحَةِ باب: نماز جنازہ میں ایک سلام پھیرا جائے گا ‘ چاریاپانچ تکبیریں کہی جائیں گی اور سورہ فاتحہ پڑھی جائے
حدیث نمبر: 1826
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ عَلَى جِنَازَةٍ فَلَمَّا كَبَّرَ التَّكْبِيرَةَ الأُولَى قَرَأَ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى أَسْمَعَ مِنْ خَلْفِهِ ، قَالَ : ثُمَّ تَابَعَ تَكْبِيرَهُ حَتَّى إِذَا بَقِيَتْ تَكْبِيرَةٌ وَاحِدَةٌ تَشَهَّدَ تَشَهُّدَ الصَّلاةِ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَانْصَرَفَ " .محمد محی الدین
عبید بن سباق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز جنازہ پڑھائی۔ جب انہوں نے پہلی تکبیر کہی، تو اس کے بعد انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھی، یہاں تک کہ ان کی آواز ان کے پیچھے موجود لوگوں تک آئی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ مسلسل تکبیر کہتے رہے، یہاں تک کہ ایک تکبیر باقی رہ گئی، تو انہوں نے نماز کے تشہد کے الفاظ پڑھے۔ پھر انہوں نے تکبیر کہی اور نماز کو ختم کر دیا۔