حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الأَسْوَدِ ، قَالُوا : ثنا وَكِيعٌ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الاسْتِسْقَاءِ ، وَقَالَ هَارُونُ، وَيُوسُفُ عَنِ الصَّلاةِ فِي الاسْتِسْقَاءِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلا مُتَضَرِّعًا مُتَرَسِّلا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ ، وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ " .ہشام بن اسحق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک امیر نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے نماز استسقاء کے بارے میں دریافت کروں، ہارون اور یوسف نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: تاکہ میں ان سے بارش کی دعا کے سلسلے میں پڑھی جانے والی نماز کے بارے میں دریافت کر سکوں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اس نے خود مجھ سے کیوں نہیں دریافت کیا؟“ (پھر انہوں نے بتایا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خشوع و خضوع کے عالم میں گریہ و زاری کی کیفیت میں (عیدگاہ) تشریف لے گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت اس طرح ادا کی تھی، جس طرح آپ عید کی نماز میں ادا کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کی طرح خطبہ نہیں دیا تھا۔