حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَاضِي الأَنْطَاكِيُّ ، ثنا أَبُو الْحَارِثِ اللَّيْثُ بْنُ عَبْدَةَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، أنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ هِشَامَ بْنَ إِسْحَاقَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ أَمِيرَ الْمَدِينَةِ أَرْسَلَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ الْوَلِيدَ أَرْسَلَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، سَلْهُ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الاسْتِسْقَاءِ يَوْمَ اسْتَسْقَى بِالنَّاسِ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَخَشِّعًا مُتَذَلِّلا ، فَصَنَعَ فِيهِ كَمَا يَصْنَعُ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى " . وَقَالَ الْقَاضِي فِي حَدِيثِهِ : مُتَبَذِّلا ، وَلَمْ يَقُلْ : مُتَذَلِّلا.اسحق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عتبہ نے انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا، اس نے کہا: ”اے میرے بھتیجے! تم ان سے یہ دریافت کرنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا کے سلسلے میں کیا کیا تھا۔“ جب آپ نے لوگوں کے لیے بارش کی دعا مانگی تھی، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ”جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خشوع و خضوع کی کیفیت کے ساتھ تشریف لے گئے تھے، آپ نے وہاں اسی طرح کیا تھا، جس طرح عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز میں کرتے ہیں۔“ یہاں پر ایک لفظ نقل کرنے میں راوی نے اختلاف کیا ہے۔