سنن الدارقطني
كتاب العيدين— عیدین کا بیان
بَابُ صِفَةِ صَلَاةِ الْخُسُوفِ وَالْكُسُوفِ وَهَيْئَتِهِمَا باب: سورج گرہن اور چاندگرہن کی نماز کا طریقہ
حدیث نمبر: 1795
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الإِصْطَخْرِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : " إِنَّ لَمَهْدِيِّنَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ ، يَنْخَسِفُ الْقَمَرُ لأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ ، وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ ، وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ " .محمد محی الدین
محمد بن علی فرماتے ہیں: ہمارے مہدی کی دو نشانیاں ہیں جو آسمان و زمین کی تخلیق کے بعد کبھی رونما نہیں ہوئیں، وہ رمضان کی پہلی رات میں چاند گرہن ہونا اور پندرھویں تاریخ کو سورج گرہن ہونا، آسمان و زمین کو جب اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، تو اس وقت سے لے کر اب تک (اس تاریخ میں یہ دونوں گرہن نہیں ہوئے)۔