ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا أَبُو النَّضْرِ ، نا عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ فَيَشُقُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي دَارَ فُلانٍ وَلا تَأْتِي دَارَنَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا " . قَالُوا : فَإِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السِّنَّوْرُ سَبْعٌ " . تَفَرَّدَ بِهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، وَهُوَ صَالِحُ الْحَدِيثِ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ انصاریوں کے گھر تشریف لے گئے، ان کے گھروں سے پہلے جو گھر تھے (وہاں آپ تشریف نہیں لے کر گئے) تو یہ بات ان لوگوں کو گراں گزری، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ فلاں صاحب کے گھر تشریف لے آئے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لائے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کی وجہ یہ ہے: تمہارے گھر میں کتا موجود ہے۔“ انہوں نے عرض کی: ”ان کے گھر میں بلی موجود ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلی درندوں میں شامل ہے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں عیسیٰ بن مسیب نامی راوی منفرد ہیں اور یہ احادیث نقل کرنے میں قابل اعتماد ہیں۔