حدیث نمبر: 179
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا أَبُو النَّضْرِ ، نا عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ فَيَشُقُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي دَارَ فُلانٍ وَلا تَأْتِي دَارَنَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا " . قَالُوا : فَإِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السِّنَّوْرُ سَبْعٌ " . تَفَرَّدَ بِهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، وَهُوَ صَالِحُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ انصاریوں کے گھر تشریف لے گئے، ان کے گھروں سے پہلے جو گھر تھے (وہاں آپ تشریف نہیں لے کر گئے) تو یہ بات ان لوگوں کو گراں گزری، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ فلاں صاحب کے گھر تشریف لے آئے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لائے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کی وجہ یہ ہے: تمہارے گھر میں کتا موجود ہے۔“ انہوں نے عرض کی: ”ان کے گھر میں بلی موجود ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلی درندوں میں شامل ہے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں عیسیٰ بن مسیب نامی راوی منفرد ہیں اور یہ احادیث نقل کرنے میں قابل اعتماد ہیں۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 179
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 654، 655، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1196، 1208، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 179، 180، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 8457، 9839، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 6090، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 345، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 2656»
«قال ابن عدي: وهذا لا يرويه غير عيسى بن المسيب بهذا الإسناد وهو ضعيف ، الكامل فى الضعفاء: 443/6»