سنن الدارقطني
كتاب العيدين— عیدین کا بیان
مَا يَجُوزُ أَنْ تُصَلِّيَ فِيهِ الْمَرْأَةُ مِنَ الثِّيَابِ باب: عورت کے لیے کتنے کپڑے پہن کر نماز ادا کرنا جائز ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا سَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ ؟ قَالَ : " إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا تُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ مَالِكٌ ، وَبَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَوْلَهَا ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کیا: ”کیا عورت صرف قمیص اور چادر کے اندر نماز ادا کر سکتی ہے، جبکہ اس نے تہبند نہ باندھا ہو؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس کی قمیص اتنی لمبی ہو کہ اس کے دونوں پاؤں کو بھی ڈھانپ لیتی ہو (تو ایسا کرنا جائز ہے)۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم ان اسناد کے ہمراہ یہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے قول کے طور پر منقول ہے، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہونے کا ذکر نہیں ہے۔