حدیث نمبر: 1784
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ ، ثنا خُصَيْفٌ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْفِ فَقَامُوا صَفَّيْنِ ، صَفٌّ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ، وَجَاءَ الآخَرُونَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ وَاسْتَقْبَلَ هَؤُلاءِ الْعَدُوَّ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ، فَقَامَ هَؤُلاءِ فَصَلُّوا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمُوا ، ثُمَّ ذَهَبُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوَّ فَرَجَعَ أُولَئِكَ إِلَى مَقَامِ هَؤُلاءِ فَصَلُّوا لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا " .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے دو صفیں بنا لیں، ایک صف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں کھڑی ہو گئی اور دوسری دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر دوسرے لوگ ان کی جگہ آ کر کھڑے ہو گئے اور یہ لوگ دشمن کے مقابلے میں چلے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی اور پھر سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی نماز مکمل کر کے سلام پھیرا، پھر یہ لوگ گئے اور پہلے والے لوگوں کی جگہ دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے، پہلے والے لوگ اس جگہ واپس آئے، انہوں نے ایک رکعت خود ادا کی اور سلام پھیر لیا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب العيدين / حدیث: 1784
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 1244، بدون ترقيم، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6125، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1784، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3631، 3959، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 5353، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 4245، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 8361، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1861، 1863، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 10272»
«قال البيهقي: أبو عبيدة لم يسمع من أبيه وخصيف ليس بالقوي ، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (6 / 254)»