سنن الدارقطني
كتاب العيدين— عیدین کا بیان
بَابُ صِفَةِ صَلَاةِ الْخَوْفِ وَأَقْسَامِهَا باب: نماز خوف کا طریقہ اور اس کی اقسام
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِيُّ ، قَالا : نا بُنْدَارٌ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالا : نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ثنا مَالِكٌ . ح وَثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلادٍ ، ثنا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، نا الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالا : نا الشَّافِعِيُّ ، ثنا مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلاةَ الْخَوْفِ ، أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةً تُجَاهَ الْعَدُوِّ ، فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ انْصَرَفُوا وَصَفُّوا تُجَاهَ الْعَدُوِّ ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ مِنْ صَلاتِهِ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ " . وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ : حَتَّى أَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ ، قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ : بِهَذَا كَانَ يَأْخُذُ مَالِكٌ ، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ : قَالَ لِي مَالِكٌ : أَحَبُّ إِلَيَّ هَذَا ثُمَّ رَجَعَ ، قَالَ : يَكُونُ قَضَاؤُهُمْ بَعْدَ السَّلامِ أَحَبَّ إِلَيَّ . صَحِيحٌ.صالح بن خوات اس صحابی کا بیان نقل کرتے ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں غزوہ ذات الرقاع میں نماز خوف ادا کی تھی (وہ صحابی بیان کرتے ہیں): نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گروہ نے صف قائم کی اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں رہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے گروہ کو ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ لوگ خود کھڑے ہوئے اور انہوں نے بقیہ نماز خود ادا کر لی، پھر وہ لوگ چلے گئے اور دشمن کے مقابلے میں صف بنا لی، پھر دوسرا گروہ آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کی باقی رہ جانے والی رکعت انہیں پڑھائی، پھر آپ بیٹھے رہے اور اس گروہ نے اپنی نماز مکمل کی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سمیت سلام پھیر دیا۔ ابن مہدی کہتے ہیں: امام مالک نے اس روایت کے مطابق فتویٰ دیا ہے۔ ابن وہب کہتے ہیں: امام مالک نے پہلے مجھ سے کہا: ”مجھے یہ روایت سب سے زیادہ پسند ہے۔“ لیکن انہوں نے پھر اس موقف سے رجوع کر لیا اور بولے: ”میرے نزدیک سب سے پسندیدہ یہ ہے کہ وہ لوگ سلام پھیرنے کے بعد اپنی نماز مکمل کریں۔“