سنن الدارقطني
كتاب العيدين— عیدین کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَنْ تَجُوزُ الصَّلَاةُ مَعَهُ وَالصَّلَاةُ عَلَيْهِ باب: اس شخص کا تذکرہ جس کی اقتداء میں نماز پڑھناجائز ہے اور جس کی نماز جنازہ اداکرناجائز ہے
حدیث نمبر: 1769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَسَدٍ الْهَرَوِيُّ ، ثنا أَبُو الأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَرَّانِيُّ ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ صُبْحٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلاثٌ مِنَ السُّنَّةِ : الصَّفُّ خَلْفَ كُلِّ إِمَامٍ لَكَ صَلاتُكَ وَعَلَيْهِ إِثْمُهُ ، وَالْجِهَادُ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ لَكَ جِهَادُكَ وَعَلَيْهِ شَرُّهُ ، وَالصَّلاةُ عَلَى كُلِّ مَيِّتٍ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ وَإِنْ كَانَ قَاتِلَ نَفْسِهِ " . عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ مَتْرُوكٌ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین چیزیں سنت ہیں: ہر امام کے پیچھے صف بنا کر (باجماعت نماز ادا کرنا)، تمہیں تمہاری نماز کا ثواب مل جائے گا، اور اس کے گناہ کا بوجھ اس کے ذمے ہو گا اور ہر امیر ہمراہ جہاد میں حصہ لینا، تمہیں تمہارے جہاد کا ثواب ملے گا اور اس کا شر اس کے ذمے ہو گا، اور اہل توحید میں سے ہر مرحوم کی نماز جنازہ ادا کرنا، اگرچہ اس نے خودکشی کی ہو۔“ اس روایت کا راوی عمر بن صبح متروک ہے۔