سنن الدارقطني
كتاب العيدين— عیدین کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَنْ تَجُوزُ الصَّلَاةُ مَعَهُ وَالصَّلَاةُ عَلَيْهِ باب: اس شخص کا تذکرہ جس کی اقتداء میں نماز پڑھناجائز ہے اور جس کی نماز جنازہ اداکرناجائز ہے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو بَدْرٍ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ مَيْمُونٍ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ مُكْرَمِ بْنِ حَكِيمٍ الْخَثْعَمِيِّ ، عَنْ سَيْفِ بْنِ مُنِيرٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : أَرْبَعُ خِصَالٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ أُحَدِّثْكُمْ بِهِنَّ فَالْيَوْمَ أُحَدِّثُكُمْ بِهِنَّ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا تُكَفِّرُوا أَحَدًا مِنْ أَهْلِ قِبْلَتِي بِذَنْبٍ وَإِنْ عَمِلُوا الْكَبَائِرَ ، وَصَلُّوا خَلْفَ كُلِّ إِمَامٍ ، وَجَاهِدُوا ، أَوْ قَالَ : قَاتِلُوا مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ ، وَالرَّابِعَةُ : لا تَقُولُوا فِي أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، وَلا فِي عُمَرَ ، وَلا فِي عُثْمَانَ ، وَلا فِي عَلِيٍّ إِلا خَيْرًا ، قُولُوا تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ " . وَلا يُثْبَتُ إِسْنَادُهُ ، مَنْ بَيْنَ عَبَّادٍ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ ضُعَفَاءُ.سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: چار خصوصیات ہیں، جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی تھیں، لیکن میں نے تمہارے سامنے ان کے بارے میں بیان نہیں کیا، آج میں تمہیں ان کے بارے میں بتاؤں گا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے اہل قبلہ میں سے کسی ایک کے گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرو، اگرچہ وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرتے ہوں اور ہر امام کی اقتداء میں نماز ادا کر لو اور ہر امیر کے ساتھ جہاد کرو (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) قتال کرو اور چوتھی بات یہ ہے ابوبکر صدیق، عمر، عثمان اور علی کے بارے میں صرف اچھی بات بیان کرو اور یہ کہو: یہ امت گزر چکی ہے، اس نے جو اچھا عمل کیا، اس کا اجر انہیں مل جائے گا اور تم جو اچھائیاں کرو گے، اس کا اجر تمہیں ملے گا۔“