سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ فِي الْخَلَاءِ باب: : بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف رخ کرنا
نا إسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، نا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عِيسَى ، قَالَ : قُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ : عَجِبْتُ لِقَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَنَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : وَمَا قَالا ؟ قُلْتُ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " لا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلا تَسْتَدْبِرُوهَا " . وَقَالَ وَقَالَ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ مَذْهَبًا مُوَاجِهَ الْقِبْلَةِ " فَقَالَ : أَمَّا قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ فَفِي الصَّحْرَاءِ : " إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى خَلْقًا مِنْ عِبَادِهِ يُصَلُّونَ فِي الصَّحْرَاءِ فَلا تَسْتَقْبِلُوهُمْ وَلا تَسْتَدْبِرُوهُمْ ، وَأَمَّا بُيُوتِكُمْ هَذِهِ الَّتِي يَتَّخِذُونَهَا لنَّتْنِ فَإِنَّهُ لا قِبْلَةَ لَهَا " . عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطُ وَهُوَ عِيسَى بْنُ مَيْسَرَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.عیسیٰ بن ابوعیسیٰ بیان کرتے ہیں: میں نے امام شعبی سے یہ کہا: مجھے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول، اور نافع کی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کردہ روایت، پر بڑی حیرت ہوتی ہے۔ امام شعبی نے دریافت کیا: ان دونوں حضرات نے کیا بات بیان کی ہے؟ تو میں نے جواب دیا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو یہ فرماتے ہیں: ”(قضائے حاجت کے وقت) قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرو۔“ جبکہ نافع نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا: آپ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا تشریف لے گئے، جس کا رخ قبلہ کی طرف تھا۔“ تو امام شعبی نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جہاں تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کا تعلق ہے، تو وہ صحرا کے بارے میں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو صحرا میں نماز ادا کرتے ہیں، تو تم لوگوں کو استنجا کرتے ہوئے ان کی طرف رخ یا پیٹھ نہیں کرنی چاہیے، لیکن جہاں تک گھروں میں بنائے جانے والے بیت الخلا کا تعلق ہے، تو ان میں قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔“