سنن الدارقطني
كتاب الوتر— وتر کا بیان
بَابُ صَلَاةِ الْمَرِيضِ وَمَنْ رَعَفَ فِي صَلَاتِهِ كَيْفَ يَسْتَخْلِفُ باب: بیمار شخص کی نماز ‘ جس شخص کی نماز کے دوران نکسیرپھوٹ پڑے ‘ وہ اپنانائب کس کو کس طرح مقررکرے ؟
حدیث نمبر: 1708
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الْقَارِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، نا أَبُو سَعِيدٍ سُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَدِّبُ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَطَّامِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَرَعَفَ أَوْ قَاءَ ، فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ وَيَنْظُرْ رَجُلا مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يَسْبِقْ بِشَيْءٍ فَيُقَدِّمُهُ ، وَيَذْهَبُ فَيَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يَجِيءُ فَيَبْنِي عَلَى صَلاتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ فَإِنْ تَكَلَّمَ اسْتَأْنَفَ الصَّلاةَ ".محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو اور اس کی نکسیر پھوٹ پڑے، اسے قے آ جائے، تو وہ اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھے اور حاضرین میں سے کسی ایسے شخص کا جائزہ لے جو سب سے بہتر ہو اور اسے آگے کر دے، پھر وہ جا کر وضو کرے اور واپس آ کر اپنی نماز وہیں سے پڑھنا شروع کر دے جہاں چھوڑ کر گیا تھا، یہ اس وقت ہے جب اس نے درمیان میں کلام نہ کیا ہو، اگر درمیان میں کلام کر لیا ہو، تو وہ نئے سرے سے نماز پڑھے گا۔“