سنن الدارقطني
كتاب الوتر— وتر کا بیان
بَابُ صَلَاةِ الْمَرِيضِ وَمَنْ رَعَفَ فِي صَلَاتِهِ كَيْفَ يَسْتَخْلِفُ باب: بیمار شخص کی نماز ‘ جس شخص کی نماز کے دوران نکسیرپھوٹ پڑے ‘ وہ اپنانائب کس کو کس طرح مقررکرے ؟
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ بَطْحَا ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْحَكَمِ الْجَبْرِيُّ ، ثنا حَسَنُ بْنُ حُسَيْنٍ الْعُرَنِيُّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُصَلِّي الْمَرِيضُ قَائِمًا إِنِ اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ صَلَّى قَاعِدًا ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَسْجُدَ أَوْمَأَ وَجَعَلَ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ قَاعِدًا صَلَّى عَلَى جَنْبِهِ الأَيْمَنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى جَنْبِهِ الأَيْمَنِ صَلَّى مُسْتَلْقِيًا وَرِجْلاهُ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ ".امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام باقر رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے امام زین العابدین رحمہ اللہ کے حوالے سے امام حسین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیمار شخص اگر کھڑے ہو کر نماز ادا کر سکتا ہو، تو کھڑے ہو کر ادا کرے، ورنہ بیٹھ کر ادا کرے، اگر وہ سجدہ کرنے کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو، تو وہ سجدہ اشارے کے ذریعے کرے اور اس کا سجدہ اس کے رکوع سے زیادہ پست ہو، اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو کہ بیٹھ کر نماز ادا کرے، تو پھر وہ اپنے دائیں پہلو کو قبلہ کی طرف کر کے نماز ادا کرے، اگر وہ دائیں پہلو کے بل بھی نماز ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، تو وہ سیدھا لیٹ کر نماز ادا کرے اور اس کے دونوں پاؤں قبلہ کی سمت ہونے چاہئیں۔“