سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ باب: : جب پانی میں نجاست مل جائے، تو اس کا حکم
حدیث نمبر: 17
حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيِّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ ، نا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بِأَرْضِ الْفَلاةِ وَمَا يَنْتَابُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ ، فَقَالَ : " إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آپ سے ایک شخص نے ایسے پانی کے بارے میں دریافت کیا تھا، جو کسی ویران جگہ پر ہوتا ہے، جس میں سے جانور اور درندے پیتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی دو قلے ہو جائے تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔“