سنن الدارقطني
كتاب الوتر— وتر کا بیان
بَابُ صِفَةِ الْقُنُوتِ وَبَيَانِ مَوْضِعِهِ باب: دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
حدیث نمبر: 1694
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى ، قَالا : ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا ، فَقَالَ : " مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْنُتُ فِي صَلاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا " .محمد محی الدین
ربیع بن انس بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان سے یہ کہا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک دعائے قنوت پڑھی ہے، تو انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں مسلسل دعائے قنوت پڑھتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔