سنن الدارقطني
كتاب الوتر— وتر کا بیان
بَابُ صِفَةِ الْقُنُوتِ وَبَيَانِ مَوْضِعِهِ باب: دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
حدیث نمبر: 1693
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا أبِي ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُوا عَلَيْهِمْ ثُمَّ تَرَكَهُ ، وَأَمَّا فِي الصُّبْحِ فَلَمْ يَزَلْ يَقْنُتُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا " . لَفْظُ النَّيْسَابُورِيِّ.محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ دعائے قنوت پڑھی ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (کفار) کے لیے دعائے ضرر کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ترک کر دیا، جہاں تک صبح کی نماز کا تعلق ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہونے تک اس میں دعائے قنوت پڑھتے رہے۔