سنن الدارقطني
كتاب الوتر— وتر کا بیان
فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ باب: وتر کے بعد دو رکعت ادا کرنا
حدیث نمبر: 1681
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ السَّفَرَ جَهْدٌ وَثِقَلٌ ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ وَإِلا كَانَتَا لَهُ " .محمد محی الدین
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں شریک تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سفر مشکل اور تھکن کا باعث ہوتا ہے، جب کوئی شخص وتر ادا کرے، تو وہ اس کے ساتھ دو رکعت ادا کر لے، اگر وہ بیدار ہو گیا، تو ٹھیک ہے، ورنہ یہ دو رکعت اس کے لیے کافی ہوں گی۔“