سنن الدارقطني
كتاب الوتر— وتر کا بیان
مَا يُقْرَأُ فِي رَكَعَاتِ الْوِتْرِ وَالْقُنُوتِ فِيهِ باب: وتر کی رکعت میں کون سی سورت کی قرأت کی جائے ‘ اس میں دعائے قنوت پڑھنا
حدیث نمبر: 1673
ثنا ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا أبِي ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لا يَغْلِبُنِي اللَّيْلَةَ عَلَى الْمَقَامِ أَحَدٌ ، فَجَاءَ رَجُلٌ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ ، فَتَنَحَّيْتُ فَافْتَتَحَ الْقُرْآنَ فَقَرَأَهُ فِي رَكْعَةٍ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَةً ؟ فَقَالَ : " هِيَ وِتْرِي " .محمد محی الدین
عبدالرحمن بن عثمان بیان کرتے ہیں: ایک دفعہ میں نے سوچا کہ آج رات مجھے کوئی مقام ابراہیم سے الگ نہ کر سکے گا، ایک شخص آیا، اس نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھا، میں نے مڑ کر دیکھا، تو وہ امیر المؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے، میں پیچھے ہٹ گیا، انہوں نے قرآن کی تلاوت شروع کی اور ایک رکعت میں اسے پڑھ لیا، میں نے عرض کی: ”اے امیر المؤمنین! آپ نے ایک رکعت ادا کی،“ تو انہوں نے جواب دیا: ”یہ میرے وتر تھے۔“