سنن الدارقطني
كتاب الوتر— وتر کا بیان
مَا يُقْرَأُ فِي رَكَعَاتِ الْوِتْرِ وَالْقُنُوتِ فِيهِ باب: وتر کی رکعت میں کون سی سورت کی قرأت کی جائے ‘ اس میں دعائے قنوت پڑھنا
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " بِتُّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَنْظُرَ كَيْفَ يَقْنُتُ فِي وِتْرِهِ ، فَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ ، ثُمَّ بَعَثْتُ أُمِّي أُمَّ عَبْدٍ ، فَقُلْتُ : تَبِيتِي مَعَ نِسَائِهِ وَانْظُرِي كَيْفَ يَقْنُتُ فِي وِتْرِهِ ، فَأَتَتْنِي فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهُ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ " . أَبَانُ مَتْرُوكٌ.سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ٹھہر گیا، تاکہ اس بات کا جائزہ لوں کہ وتر کی نماز میں دعائے قنوت کب پڑھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھی، پھر میں نے اپنی والدہ سیدہ ام عبد کو بھیجا اور ان سے کہا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ کے ہاں ٹھہریں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز میں دعائے قنوت کیسے پڑھتے ہیں، تو میری والدہ نے آ کر مجھے یہ بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھی تھی۔ اس روایت کا ایک راوی ابان متروک ہے۔