حدیث نمبر: 1658
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، ثنا عَبْدَانُ ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : مَكَثْنَا زَمَانًا لا نَزِيدُ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعْنَا ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ زَادَكُمْ صَلاةً " ، فَأَمَرَنَا بِالْوِتْرِ . مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ضَعِيفٌ.محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک طویل عرصہ ایسا گزر گیا کہ ہم پانچ نمازوں کے علاوہ مزید کوئی نماز نہیں ادا کرتے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، تو ہم اکٹھے ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک اور نماز عطا کی ہے،“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وتر ادا کرنے کی تلقین کی۔ اس روایت کا راوی (یعنی عبیداللہ) محمد بن عبیداللہ عزیم ضعیف ہے۔