سنن الدارقطني
كتاب الوتر— وتر کا بیان
الْوِتْرُ بِخَمْسٍ أَوْ بِثَلَاثٍ أَوْ بِوَاحِدَةٍ أَوْ بِأَكْثَرَ مِنْ خَمْسٍ باب: : وترپانچ ہوتے ہیں ‘ وترتین ہوتے ہیں ‘ وترایک ہوتا ہے یاوترپانچ سے زیادہ ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 1648
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَنْجَابَ الطَّيِّبِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِهْرَانِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، نا مُعْتَمِرُ بْنُ تَمِيمٍ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِكُمْ أُوتِرُ ؟ قَالَ : " بِوَاحِدَةٍ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَبِثَلاثٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " بِخَمْسٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " بِسَبْعٍ " ، قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : فَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں کتنے وتر ادا کروں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک،“ میں نے عرض کی: ”یا نبی اللہ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں،“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تین،“ پھر انہوں نے فرمایا: ”پانچ،“ پھر فرمایا: ”سات،“ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کاش! اس وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ رخصت کو اختیار کر لیا ہوتا۔