سنن الدارقطني
كتاب الوتر— وتر کا بیان
بَابُ صِفَةِ الْوِتْرِ وَأَنَّهُ لَيْسَ بِفَرْضٍ , وَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ باب: : وترکاطریقہ ‘ یہ فرض نہیں ہیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ پر بھی وتراداکیے ہیں
حدیث نمبر: 1636
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : " كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ نزل فَأَوْتَرَ عَلَى الأَرْضِ " ، قَالَ : وَقَالَ نَافِعٌ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ " رُبَّمَا أَوْتَرَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَرُبَّمَا نزل ".محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری کے اوپر ہی نفل نماز ادا کر لیتے تھے، جب انہیں وتر ادا کرنے ہوتے تھے، تو سواری سے اتر کر وتر ادا کیا کرتے تھے، نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بعض اوقات اپنی سواری کے اوپر ہی وتر ادا کر لیتے تھے اور بعض اوقات نیچے اتر کر پھر وتر ادا کرتے تھے۔