سنن الدارقطني
كتاب الوتر— وتر کا بیان
بَابُ صِفَةِ الْوِتْرِ وَأَنَّهُ لَيْسَ بِفَرْضٍ , وَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ باب: : وترکاطریقہ ‘ یہ فرض نہیں ہیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ پر بھی وتراداکیے ہیں
حدیث نمبر: 1635
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، ثنا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا ، وَيُذْكَرُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اپنی سواری کے اوپر ہی وتر کی نماز ادا کر لیتے تھے، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کر لیا کرتے تھے۔