سنن الدارقطني
كتاب الوتر— وتر کا بیان
بَابُ صِفَةِ الْوِتْرِ وَأَنَّهُ لَيْسَ بِفَرْضٍ , وَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ باب: : وترکاطریقہ ‘ یہ فرض نہیں ہیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ پر بھی وتراداکیے ہیں
حدیث نمبر: 1634
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَمُوسَى يَعْنِي ابْنَ عُقْبَةَ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، وَيُصَلِّي التَّطَوُّعَ عَلَيْهَا حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ يُومِئُ بِرَأْسِهِ إِيمَاءً " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کے اوپر ہی نوافل ادا کر لیتے تھے، خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے ذریعے اشارہ کر کے (رکوع اور سجدہ) کیا کرتے تھے۔“