حدیث نمبر: 1633
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ ، قَالَ سَعِيدٌ : فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نزلت فَأَوْتَرْتُ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ ، فَقَالَ لِيَ ابْنُ عُمَرَ : " أَيْنَ كُنْتَ ؟ " ، قُلْتُ : خَشِيتُ الْفَجْرَ فنزلت فَأَوْتَرْتُ ، قَالَ : " أَوَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ؟ " ، فَقُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ " .
محمد محی الدین

سعید بن یسار بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ مکہ کے راستے میں سفر کر رہا تھا، جب مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ صبح صادق ہونے والی ہے، تو میں سواری سے اترا اور وتر کی نماز ادا کر لی، پھر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے آ کر ملا، تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: ”تم کہاں رہ گئے تھے؟“ میں نے عرض کی: ”مجھے صبح صادق ہونے کا اندیشہ تھا، اس لیے میں نے سواری سے اتر کر وتر کی نماز ادا کی،“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا کافی نہیں ہے؟“ تو میں نے جواب دیا: ”بالکل ہے،“ تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر ہی وتر ادا کر لیتے تھے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الوتر / حدیث: 1633
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 999، 1095، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 700، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 401 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1704، 2412، 2413، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1685 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 472، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1631، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1200، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1633، 1635، 1636، 1654، 1655، 1680، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4607»