حدیث نمبر: 163
نا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الآدَمِيُّ ، حَدَّثَنِي السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَبُو سَهْلٍ ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قَوْمًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْضِعِ خَلائِهِ أَنْ يَسْتَقْبِلَ بِهِ الْقِبْلَةَ " . بَيْنَ خَالِدٍ وَعِرَاكٍ ، خَالِدُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ.
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، کچھ لوگ پاخانہ کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کرنے اور پیٹھ کرنے کو ناپسند کرتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پاخانہ کی ایسی جگہ پر جا کر قضائے حاجت کرنے کی ہدایت کی جس کا رخ قبلہ کی طرف تھا۔ امام دارقطنی بیان کرتے ہیں: اس روایت کی سند میں خالد نامی راوی اور عراک نامی راوی کے درمیان خالد بن ابوصلت نامی راوی ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 163
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 324، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 445، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 163، 164، 165، 166، 167، 168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25703»
«قال البخاري: خالد بن أبى الصلت عن عراك مرسل تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي:17/1»