سنن الدارقطني
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
ذِكْرُ الْعَدَدِ فِي الْجُمُعَةِ باب: : جمعہ کی نماز میں تعدادکاتذکرہ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، ثنا أبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنْتُ قَائِدَ أَبِي حِينَ ذَهَبَ بَصَرُهُ ، فَإِذَا خَرَجْتُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَسَمِعَ الأَذَانَ صَلَّى عَلَى أَبِي أُمَامَةَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ ، فَمَكَثَ كَذَلِكَ حِينًا لا يَسْمَعُ الأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ إِلا فَعَلَ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَهْ ، أَرَأَيْتَ اسْتِغْفَارَكَ لأَبِي أُمَامَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ أَذَانَ الْجُمُعَةِ مَا هُوَ ؟ قَالَ : أَيْ بُنَيَّ هُوَ أَوَّلُ مَنْ جَمَعَ بِالْمَدِينَةِ فِي هَزْمٍ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ ، يُقَالُ لَهُ : نَقِيعُ الْخَضَمَاتِ ، قَالَ : قُلْتُ : كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : أَرْبَعُونَ رَجُلا " .محمد بن ابوامامہ اپنے والد کے حوالے سے سیدنا عبدالرحمن بن کعب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں اپنے والد کو ساتھ لے کر جایا کرتا تھا، جب ان کی بینائی رخصت ہو گئی تھی، ایک مرتبہ میں انہیں لے کر جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے گیا، تو انہوں نے اذان کی آواز سننے کے بعد سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعائے رحمت کی اور دعائے مغفرت کی اور پھر کچھ دیر اسی حالت میں رہے، وہ جب بھی جمعہ کی اذان سنا کرتے تھے، وہ ایسا ہی کیا کرتے تھے، میں نے ان سے دریافت کیا: ”اے ابا جان! آپ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے ہیں، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعائے استغفار کرتے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”اے میرے بیٹے! وہ (سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ) پہلے فرد ہیں، جنہوں نے مدینہ میں بنو بیاضہ کے پتھریلے میدان کی پست زمین میں جمعہ کا آغاز کیا تھا، اس جگہ کا نام ’نقیع الخضمات‘ ہے،“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا کہ اس وقت آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”چالیس افراد تھے۔“