حدیث نمبر: 1583
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الآدَمِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ يَخْطُبُنَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِذَا أَقْبَلَتْ عِيرٌ تَحْمِلُ الطَّعَامَ حَتَّى نَزَلُوا بِالْبَقِيعِ ، فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا وَانْفَضُّوا إِلَيْهَا ، وَتَرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مَعَهُ إِلا أَرْبَعُونَ رَجُلا أَنَا مِنْهُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 " . لَمْ يَقُلْ فِي هَذَا الإِسْنَادِ : إِلا أَرْبَعِينَ رَجُلا غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، وَخَلْفَهُ أَصْحَابُ حُصَيْنٍ ، فَقَالُوا : لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلا .
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ہمیں خطبہ دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک قافلہ آیا، جو اناج لے کر آیا تھا اور وہ قافلہ کھلے میدان میں ٹھہر گیا۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے اور اس کی طرف چلے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف چالیس افراد رہ گئے، جن میں میں بھی شامل تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی: ”اور جب انہوں نے تجارت اور دلچسپی کی چیز کو دیکھا، تو اس کی طرف چلے گئے اور تمہیں قیام کی حالت میں چھوڑ گئے۔“ صرف علی بن عامر رحمہ اللہ نامی راوی نے اس روایت میں چالیس افراد کی موجودگی کا تذکرہ کیا ہے، جبکہ دیگر راویوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف بارہ افراد رہ گئے تھے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الجمعة / حدیث: 1583
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 936، 2058، 2064، 4899، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 863، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1823، 1852، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6876، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3311، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1583، 1584، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14579»
«قال ابن حجر: تفرد به علي بن أبي عاصم وهو ضعيف الحفظ ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (4 / 200)»