سنن الدارقطني
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
ذِكْرُ الْعَدَدِ فِي الْجُمُعَةِ باب: : جمعہ کی نماز میں تعدادکاتذکرہ
حدیث نمبر: 1579
قُرِئَ عَلَى أَبِي عِيسَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَارُونَ الأَنْبَارِيِّ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ إِسْحَاقُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بِبَالِسَ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثنا خُصَيْفٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " مَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ فِي كُلِّ ثَلاثَةٍ إِمَامًا ، أَوْ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ جُمُعَةً ، وَأَضْحَى ، وَفِطْرًا ، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ جَمَاعَةٌ قَالَ : وَكَذَلِكَ ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، " .محمد محی الدین
عطاء بن ابی رباح، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”یہ طریقہ چلا آرہا ہے، جب تین لوگ موجود ہوں، تو ان میں سے ایک امام ہو گا اور جہاں چالیس لوگ یا اس سے زیادہ وہ لوگ ہوں، تو وہاں جمعہ کی نماز بھی ہو گی، عید الضحیٰ کی نماز بھی ہو گی اور عید الفطر کی نماز بھی ہو گی، اس کی وجہ یہ ہے: یہ لوگ ایک جماعت شمار ہوتے ہیں۔“