حدیث نمبر: 154
نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، نا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَرَّ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ التَّغَوُّطِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَنَكَّبَ الْقِبْلَةَ ، وَلا يَسْتَقْبِلُهَا وَلا يَسْتَدْبِرُهَا ، وَلا يَسْتَقْبِلُ الرِّيحَ وَأَنْ يَسْتَنْجِيَ بِثَلاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ ، أَوْ ثَلاثَةِ أَعْوَادٍ ، أَوْ ثَلاثِ حَثَيَاتٍ مِنْ تُرَابٍ " . لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ . وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ سراقہ بن مالک مدلجی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ سے قضائے حاجت کے طریقے کے بارے میں دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی: ”وہ قبلہ کی طرف سے ہٹ کر بیٹھے، اس کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرے اور جس طرف ہوا چل رہی ہو اس طرف منہ نہ کرے، اور وہ تین پتھروں کے ذریعے استنجا کرے، جس میں کوئی مینگنی شامل نہ ہو یا تین لکڑیوں کے ذریعے کرے یا مٹی کے تین لپ کے ذریعے کرے۔“