حدیث نمبر: 148
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ ، نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ الْجُرْجَانِيُّ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّنْعَانِيُّ ، قَالُوا : أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فَأَمَرَ ابْنَ مَسْعُودٍ أَنْ يَأْتِيَهُ بِثَلاثَةِ أَحْجَارٍ فَجَاءَهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَلْقَى الرَّوْثَةَ ، وَقَالَ : " إِنَّهَا رِكْسٌ ائْتِنِي بِحَجَرٍ " تَابَعَهُ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ۔.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، آپ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی: ”وہ آپ کے لیے تین پتھر لے کر آئیں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دو پتھر اور ایک مینگنی لے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مینگنی کو پھینک دیا اور فرمایا: ”یہ گندگی ہے، تم پتھر لے کر آؤ۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، جس کے مطابق سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کہیں جا رہا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی: ”میں آپ کے لیے تین پتھر لے کر آؤں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں آپ کے پاس دو پتھر اور ایک مینگنی لے کر آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مینگنی کو ایک طرف ڈال دیا اور ارشاد فرمایا: ”یہ گندگی ہے، تم اس کی بجائے دوسری چیز (پتھر) میرے پاس لے کر آؤ۔“ اس روایت میں ابواسحاق نامی راوی پر اختلاف کیا گیا ہے، (امام دارقطنی کہتے ہیں:) میں نے کسی دوسرے مقام پر اس اختلاف کی وضاحت کر دی ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 148
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 156، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 70، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 43، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 17، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 314، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 508، 531، 4210، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 148، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3760»