نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : قَالَ لَهُ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ يَسْتهْزِئُ بِهِ : إِنِّي لأَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ ، قَالَ : أَجَلْ أَمَرَنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ لا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَلا نَسْتَدْبِرَهَا ، وَلا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا ، وَلا نَسْتَكْفِيَ بِدُونِ ثَلاثِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا عَظْمٌ وَلا رَجِيعٌ " .سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: کسی مشرک نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے ان سے یہ کہا: میں نے یہ بات نوٹ کی ہے، آپ کے آقا نے آپ کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ رفع حاجت کے طریقے کی بھی تعلیم دی ہے، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جی ہاں! اللہ کے رسول نے ہمیں یہ ہدایت کی ہے، ہم استنجا کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کریں اور دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا نہ کریں اور تین پتھروں سے کم کے ذریعہ استنجا نہ کریں، ان پتھروں میں کوئی ہڈی یا مینگنی نہیں ہونی چاہیے۔“