نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِي ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَزِيدَ ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَهُ ، أنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَهُوَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لامْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .علقمہ بن وقاص بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا، وہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اعمال (کی جزا) کا دارومدار نیت پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جو اس نے نیت کی ہو گی، جس شخص نے ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف کی ہو گی، اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف شمار ہو گی، اور جس شخص نے ہجرت دنیا کے لیے کی تھی تاکہ اسے حاصل کرے یا کسی عورت کے لیے کی تھی تاکہ وہ اس سے شادی کر لیتا تو اس کی ہجرت اسی طرف ہو گی جس کی طرف (نیت کر کے) اس نے ہجرت کی تھی۔“