سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ غَسْلِ الْيَدَيْنِ لِمَنِ اسْتَيْقَظَ مِنْ نَوْمِهِ باب: : نیند سے بیدار ہونے والے شخص کا دونوں ہاتھ دھونا
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نا عَمِّي ، نا ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَجَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنَّهُ لا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ مِنْهُ ، أَوْ أَيْنَ طَافَتْ يَدُهُ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ حَوْضًا ، فَحَصَبَهُ ابْنُ عُمَرَ ، وَقَالَ : أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَقُولُ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ حَوْضًا . إِسْنَادٌ حَسَنٌ.سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو، تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے، کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات کے وقت کہاں رہا ہے یا اس کے ہاتھ نے کہاں کا طواف کیا ہے؟“ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ کہا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر وہ شخص حوض سے وضو کرنا چاہ رہا ہو (تو پھر بھی اسے ایسا کرنا پڑے گا)؟ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے کنکری ماری اور بولے: ”میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث سنا رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو ’آپ کا کیا خیال ہے، اگر اس نے حوض سے وضو کرنا ہو؟‘“ اس روایت کی سند ”حسن“ ہے۔