حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَابِدُ ، نا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَوْ زَيْنَبَ ، أَوْ غَيْرِهِمَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ مَيْمُونَةَ مَاتَتْ شَاةٌ لَهَا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ " ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نَسْتَمْتِعُ بِهَا وَهِيَ مَيْتَةٌ ، فَقَالَ : " طَهُورُ الأُدْمِ دِبَاغُهُ " . وَقَالَ غَيْرُهُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَتْ لَنَا شَاةٌ فَمَاتَتْ.ہزیل بن شرحبیل، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا یا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا یا ان دونوں کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی اور زوجہ محترمہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی بکری مر گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم لوگ اس کی کھال کو استعمال کیوں نہیں کرتے؟“ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اسے کیسے استعمال کر سکتے ہیں، یہ تو مردار ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباغت کے ذریعے چمڑہ پاک ہو جاتا ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ سے منقول ہے، جس کے یہ الفاظ ہیں: ہماری ایک بکری تھی جو مر گئی۔