حدیث نمبر: 116
نا أَبُو طَلْحَةَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، نا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، بِبَيْرُوتَ ، نا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نا يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا بَأْسَ بِمَسْكِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَ ، وَلا بَأْسَ بِصُوفِهَا وَشَعْرِهَا وَقُرُونِهَا إِذَا غُسِلَ بِالْمَاءِ " . يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ مَتْرُوكٌ ، وَلَمْ يَأْتِ بِهِ غَيْرُهُ .
محمد محی الدین

ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: وہ فرماتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب مردار کی کھال کی دباغت کر لی جائے تو پھر اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس کی اون، اس کے بال، اس کے سینگ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جب انہیں پانی کے ذریعہ دھو لیا جائے۔“ اس روایت کا راوی یوسف بن سفر، متروک ہے اور اس سے اس روایت کے علاوہ اور کوئی روایت منقول نہیں ہے (یا اس روایت کو صرف اسی نے نقل کیا ہے)۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 116
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 82، 11322، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 116، 117، 119، 125، 4707، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 25، وأخرجه الطبراني فى((الكبير)) برقم: 538، قال الدارقطني: يوسف بن أبى السفر متروك ، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: 160/3»