حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، نا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، ح وَنا أَبُو بَكْرٍ الأَزْرَقُ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا جَدِّي ، نا عَمَّارُ بْنُ سَلامٍ أَبُو مُحَمَّدٍ ، نا زَافِرٌ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : " قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ سورة الأنعام آية 145 ، قَالَ : الطَّاعِمُ الآكِلُ ، فَأَمَّا السِّنُّ ، وَالْقَرْنُ ، وَالْعَظْمُ ، وَالصُّوفُ ، وَالشَّعْرُ ، وَالْوَبَرُ ، وَالْعَصَبُ فَلا بَأْسَ بِهِ لأَنَّهُ يُغْسَلُ " . وَقَالَ شَبَابَةُ : " إِنَّمَا حُرِّمَ مِنَ الْمَيْتَةِ مَا يُؤْكَلُ مِنْهَا وَهُوَ اللَّحْمُ فَأَمَّا الْجِلْدُ وَالسِّنُّ وَالْعَظْمُ وَالشَّعْرُ وَالصُّوفُ فَهُوَ حَلالٌ " ، أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ضَعِيفٌ.ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”تم یہ فرما دو! میری طرف جو چیز وحی کی گئی ہے، اس میں، میں ایسی کسی چیز کو نہیں پاتا جو کھانے والے پر حرام قرار دی گئی ہو۔“ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں: یہاں طاعم (کھانے والے) سے مراد کھانے والا شخص ہے، جہاں تک دانت، سینگ، ہڈی، اون، بال، وبر کا تعلق ہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ انہیں دھو لیا جاتا ہے۔ شبابہ نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: ”مردار کی وہ چیز حرام ہوتی ہے، جسے کھایا جاتا ہے اور وہ چیز گوشت ہے جہاں تک کھال، ہڈی، دانت، بال، اون کا تعلق ہے، تو انہیں (دوسرے کاموں کے لیے) استعمال کرنا جائز ہے۔“ اس روایت کا راوی ابوبکر ہذلی ضعیف ہے۔