حدیث نمبر: 109
نا محَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ الْعَبْدِيُّ ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، نا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بِمَاءٍ مِنْ عِنْدِ امْرَأَةٍ ، فَقَالَتْ : مَا عِنْدِي مَاءٌ إِلا فِي قِرْبَةٍ لِي مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ قَدْ دَبَغَتْهَا ؟ ، قَالَتْ : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّ ذَكَاتَهَا دِبَاغُهَا " .
محمد محی الدین

سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون سے پانی طلب کیا تو اس نے عرض کی: میرے پاس جو پانی ہے وہ ایک ایسے مشکیزے میں ہے جو ایک مردہ (جانور) کا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اس (کی کھال) کی دباغت نہیں کر لی تھی؟“ اس خاتون نے عرض کی: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباغت کے نتیجے میں یہ پاک ہو جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 109
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4522، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7310، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4254، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4555، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4125، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 51، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 109، 110، 111، 112، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16153»
«قال ابن حجر: وإسناده صحيح ، التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 80/1»