حدیث نمبر: 101
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزَ ، إِمْلاءً ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَقُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ ، قَالُوا : نا أَبُو عُتْبَةَ الْحِمْصِيُّ ، نا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ دَاجِنٍ لِبَعْضِ أَهْلِهِ قَدْ نَفَقَتْ ، فَقَالَ : " أَلا اسْتَمْتَعْتُمْ بِجِلْدِهَا ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، قَالَ : " إِنَّ دِبَاغَهَا ذَكَاتُهَا " . وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : " إِنَّ دِبَاغَهُ ذَكَاتُهُ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک اہلیہ محترمہ کے پالتو بکری کے پاس سے گزرے جو مر چکی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی کھال کو استعمال کیوں نہیں کرتے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ مردار ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دباغت کے ذریعے پاک ہو جاتی ہے۔“ ابن صاعد کی نقل کردہ روایت میں کچھ لفظی اختلاف ہے (یعنی ضمیر مجرد متصل واحد مونث غائب کی بجائے واحد مذکر غائب منقول ہے)۔