حدیث نمبر: 100
ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالا : ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " ، فَقَالُوا : أُعْطِيتَهَا مَوْلاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ ، قَالَ : " أَفَلا أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ وَانْتَفَعُوا بِهِ ؟ " ، فَقَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا حُرِّمَ مِنَ الْمَيْتَةِ أَكْلُهَا " .محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے، آپ نے دریافت کیا: ”یہ کس کی ہے؟“ لوگوں نے بتایا ہے: یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی کنیز کو صدقے کے طور پر دی گئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے اس کی کھال اتار کر اس کو دباغت کر کے اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟“ لوگوں نے عرض کی: یہ مردار ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردار کو کھانا حرام ہے۔“