کتب حدیث › سنن دارمي › ابواب › باب: جو قرآن سنے اس کی فضیلت کا بیان
❮
❯
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: "إِنَّ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ لَهُ أَجْرٌ، وَإِنَّ الَّذِي يَسْتَمِعُ لَهُ أَجْرَانِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
خالد بن معدان نے کہا: بیشک جو قرآن پڑھتا ہے اس کے لئے ایک اجر ہے اور جو قرآن سنتا ہے اس کے لئے ڈبل اجر ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3398
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 3409]
تخریج حدیث عبدۃ بنت خالد غير معروف ہیں۔ ابوالمغيرہ: عبدالقدوس بن الحجاج ہیں۔ کہیں اور یہ روایت نہیں ملی اور یہ خالد بن معدان کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا رَزِينُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "مَنْ اسْتَمَعَ إِلَى آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جو شخص قرآن پاک کی ایک آیت غور سے سنتا ہے وہ اس کے لئے نور (روشنی) ہو گی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3397 سے 3399)
اگرچہ یہ روایات سند کے لحاظ سے صحیح نہیں ہیں لیکن قرآن پاک سننے والے کو بھی پڑھنے والے ہی کی طرح اجر و ثواب ملتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3399
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف فيه عنعنة ابن جريج. ورزين بن عبد الله بن حميد مجهول، [مكتبه الشامله نمبر: 3410]
تخریج حدیث اس روایت کی سند میں ابن جریج مدلس ہیں اور عن سے روایت کی ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 6012] ، [فضائل القرآن 64]