کتب حدیثسنن دارميابوابباب: وقف کا بیان
حدیث نمبر: 3332
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: "أَنَّ الزُّبَيْرَ جَعَلَ دُورَهُ صَدَقَةً عَلَى بَنِيهِ، لَا تُبَاعُ وَلَا تُوَرَّثُ، وَأَنَّ لِلْمَرْدُودَةِ مِنْ بَنَاتِهِ أَنْ تَسْكُنَ غَيْرَ مُضِرَّةٍ وَلَا مُضَارٍّ بِهَا، فَإِنْ هِيَ اسْتَغْنَتْ بِزَوْجٍ، فَلَا حَقَّ لَهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام نے اپنے والد (عروہ بن الزبیر) سے روایت کیا کہ سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نے اپنے گھروں کو اپنے بیٹوں کے لئے وقف کر دیا اور یہ شرط لگا دی کہ نہ وہ بیچے جائیں اور نہ وراثت میں تقسیم کئے جائیں، اور اپنی ایک طلاق شدہ لڑکی سے کہا کہ وہ اس میں قیام کریں اور اس گھر کو نقصان نہ پہنچائیں، اور نہ کوئی اور اس میں نقصان کرے، اور خاوند والی بیٹی کو اس گھر میں رہنے کا حق نہیں۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3331)
اصل چیز کو بیع، وراثت یا ہبہ سے محفوظ کر لینا اور اس کی آمدنی کسی خاص مد کیلئے فی سبیل الله متعین کرنا وقف کہلاتا ہے، یعنی اسے فروخت یا ہبہ کرنا یا بطورِ ترکہ ورثاء میں تقسیم کرنا درست نہیں۔
اولاد کے لئے بھی وقف صحیح ہے جیسا کہ مذکور بالا اثر میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کو اپنے بیٹوں کے لئے وقف کیا۔
والله اعلم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3332
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3343]» ¤ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ابواسامہ: حماد بن اسامہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 974] ، [البيهقي 166/6] ۔ نیز امام بخاری نے اس کو تعليقاً «كتاب الوصايا باب اذا وقف ارضا ......» میں حدیث [2778] سے پہلے ذکر کیا ہے۔