کتب حدیثسنن دارميابوابباب: نوعمر لڑکے کی وصیت کا بیان
حدیث نمبر: 3314
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، أنبأنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: أَنَّهُ "أَجَازَ وَصِيَّةَ ابْنِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ نے تیرہ سال کے لڑکے کی وصیت کو جائز قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3314
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3325]» ¤ اس اثر کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10898] ، [عبدالرزاق 16416، 16419]
حدیث نمبر: 3315
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: "أَوْصَى غُلَامٌ مِنْ الْحَيِّ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: إِذَا أَصَابَ الْغُلَامُ فِي وَصِيَّتِهِ، جَازَتْ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يُعْجِبُنِي، وَالْقُضَاةُ لَا يُجِيزُونَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابواسحاق نے کہا: ایک قبیلے کے سات سالہ لڑکے نے وصیت کی تو قاضی شریح نے کہا: اگر وصیت صحیح ہے تو جائز ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یہ رائے مجھے پسند ہے لیکن قاضی حضرات اس کو جائز نہیں گردانتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3315
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3326]» ¤ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10904] ، [عبدالرزاق 16414] ، [ابن منصور 434] ، [اخبار القضاة 264/2]
حدیث نمبر: 3316
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق أَنَّهُ"شَهِدَ شُرَيْحًا أَجَازَ وَصِيَّةَ عَبَّاسِ بْنِ إِسْمَاعِيل بْنِ مَرْثَدٍ لِظِئْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ"، وَعَبَّاسٌ صَبِيٌّ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابواسحاق بن اسماعیل نے بیان کیا کہ وہ قاضی شریح کے پاس تھے، انہوں نے عباس بن اسماعیل بن مرثد کی اہلِ حیرہ کی دایہ کے لئے وصیت کو جائز قرار دیا، اس وقت عباس بچے تھے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3316
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3327]» ¤ اس اثر کی سند صحیح ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 3317
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأنا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، قَالَ: قَالَ شُرَيْحٌ: "إِذَا اتَّقَى الصَّبِيُّ الرَّكِيَّةَ، جَازَتْ وَصِيَّتُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابواسحاق نے کہا: قاضی شریح نے کہا: جب بچہ کنویں (میں گرنے) سے بچنے لگ جائے تو اس کی وصیت جائز ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3313 سے 3317)
یعنی جب اس بچے کے اندر اچھے برے اور نفع و نقصان کا شعور پیدا ہو جائے تو اس کی وصیت قابلِ عمل ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3317
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3328]» ¤ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: «سابق ولا حق» اور [ابن أبى شيبه 10906]
حدیث نمبر: 3318
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق: "أَنَّ غُلَامًا مِنْهُمْ حِينَ ثُغِرَ يُقَالُ لَهُ مَرْثَدٌ: أَوْصَى لِظِئْرٍ لَهُ مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ بِأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا، فأجازه شريح، وَقَالَ: مَنْ أَصَابَ الْحَقَّ، أَجَزْنَاهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابواسحاق سے مروی ہے کہ ان کے قبیلے کے ایک لڑکے نے جس کا نام مرثد تھا اور اس کے (دودھ کے) دانت گر گئے تھے، اس نے اہلِ حیرہ میں سے اپنی دایہ کے لئے چالیس درہم کی وصیت کی، قاضی شریح نے اس کو جائز قرار دیا اور فرمایا: جو کوئی حق بات کہے ہم نے اس کو جائز قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3318
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3329]» ¤ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10905] ، [اخبار القضاة 370/2] ، [عبدالرزاق 16412، 16413]
حدیث نمبر: 3319
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى: أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَخْبَرَهُ: "أَنَّ غُلَامًا بِالْمَدِينَةِ حَضَرَهُ الْمَوْتُ وَوَرَثَتُهُ بِالشَّامِ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا لِعُمَرَ أَنَّهُ يَمُوتُ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يُوصِيَ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُوصِيَ، فَأَوْصَى بِبِئْرٍ يُقَالُ لَهَا: بِئْرُ جُشَمَ، وَإِنَّ أَهْلَهَا بَاعُوهَا بِثَلَاثِينَ أَلْفًا، ذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّ الْغُلَامَ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ، أَوْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ مدینہ میں ایک لڑکے کی موت کا وقت قریب آیا، اس کے وارثین شام میں تھے، لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ وہ قریب الموت ہے، کیا وصیت کر سکتا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ وہ وصیت کر سکتا ہے، چنانچہ اس نے ایک کنواں جس کو بئر جشم کہا جاتا تھا اس کی وصیت کی جس کو اس کے مالکان نے تیس ہزار میں بیچا تھا۔ ابوبکر نے ذکر کیا: اس لڑکے کی عمر دس یا بارہ سال تھی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3319
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أنه منقطع أبو بكر بن محمد لم يدرك عمر فيما نعلم والله أعلم
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع أبو بكر بن محمد لم يدرك عمر فيما نعلم والله أعلم، [مكتبه الشامله نمبر: 3330]» ¤ اس اثر کے رواۃ ثقات ہیں، لیکن ابوبکر بن محمد کا لقاء سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے سند میں انقطاع ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10896] ، [عبدالرزاق 16411] ، [الموطأ: فى الوصية، باب جواز وصية الصغير] ، [البيهقي 282/6] ، [ابن حزم 330/9]
حدیث نمبر: 3320
حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "يَجُوزُ وَصِيَّةُ الصَّبِيِّ في ماله في الثلث، فما دونه، وإنما يمنعه وليه ذلك في الصحة رهبة الفاقة عليه، فأما عند الموت، فليس له أن يمنعه".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: بچے کی اپنے مال میں تہائی یا اس سے کم کی وصیت جائز ہے، اور بحالتِ صحت اس کا ولی اس بچے کو فقر و فاقہ کے ڈر سے وصیت سے روک سکتا ہے، لیکن موت کے وقت اس کو وصیت سے روکنے کا اختیارنہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3320
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى إبراهيم
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3331]» ¤ اس اثر کی سند ابراہیم رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10910] و [عبدالرزاق 16424] و [ابن منصور 436]
حدیث نمبر: 3321
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خالد الحذاء، وَأَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ: "أَنَّهُ أُتِيَ فِي جَارِيَةٍ أَوْصَتْ، فَجَعَلُوا يُصَغِّرُونَهَا، فَقَالَ: مَنْ أَصَابَ الْحَقَّ، أَجَزْنَاهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن سیرین رحمہ اللہ سے مروی ہے عبداللہ بن عتبہ کے پاس ایک بچی لائی گئی جس نے وصیت کی تھی، لوگوں نے اس کو چھوٹی سمجھا، لیکن انہوں نے کہا: جس شخص نے صحیح بات کی ہم اس کو جائز سمجھتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3321
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى عبد الله بن عتبة
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عبد الله بن عتبة، [مكتبه الشامله نمبر: 3332]» ¤ اس اثر کی سند عبداللہ بن عتبہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10899] ، [عبدالرزاق 16415] ، [ابن منصور 432، 433]
حدیث نمبر: 3322
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ: "أَنَّ سُلَيْمًا الْغَسَّانِيَّ مَاتَ وَهُوَ ابْنُ عَشْرٍ، أَوْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَوْصَى بِبِئْرٍ لَهُ قِيمَتُهَا ثَلاثُونَ أَلْفًا"، فَأَجَازَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: النَّاسُ يَقُولُونَ: عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ .
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوبکر سے مروی ہے کہ سلیم غسانی کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر دس یا بارہ سال تھی، انہوں نے اپنے کنویں کی وصیت کی جس کی قیمت تیس ہزار تھی، سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اس کو جائز قرار دیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: سلیم غسانی کو لوگ عمرو بن سلیم کہتے ہیں (یعنی صحیح عمرو بن سلیم ہے نہ کہ سلیم غسانی)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3322
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: هكذا سمعه أبو محمد فرواه كما سمعه ولكنه ذكر الرواية الصحيحة في آخر الأثر. إسناده منقطع عمر بن سليم لم يدرك ابن الخطاب
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «هكذا سمعه أبو محمد فرواه كما سمعه ولكنه ذكر الرواية الصحيحة في آخر الأثر. إسناده منقطع عمر بن سليم لم يدرك ابن الخطاب، [مكتبه الشامله نمبر: 3333]» ¤ اس اثر کی سند میں انقطاع ہے۔ عمرو بن سلیم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں نہ تھے۔ دیکھے: [عبدالرزاق 16409]
حدیث نمبر: 3323
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنَيْهِ: عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدٍ ابْنَيْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِمَا مِثْلَ ذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّ أَحَدَهُمَا قَالَ: ابْنُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَقَالَ الْآخَرُ: قَبْلَ أَنْ يَحْتَلِمَ . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: عَنْ ابْنَيْهِ، يَعْنِي: ابْنَيْ أَبِي بَكْرٍ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ اور محمد نے اپنے والد ابوبکر (بن محمد بن عمرو بن حزم) سے اسی طرح روایت کیا (جیسا اوپر گزرا) سوائے اس کے کہ ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اس لڑکے کی عمر تیرہ سال تھی، اور دوسرے نے کہا: بالغ ہونے سے پہلے (وصیت کی)۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: «عن ابنيه» اس سے مراد ابوبکر کے دونوں بیٹے (عبداللہ اور محمد) ہیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3317 سے 3323)
ان تمام آثار سے معلوم ہوا کہ بچے کی وصیت اگر معقول اور صحیح ہے تو نافذ العمل ہوگی۔
واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3323
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده منقطع
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3334]» ¤ اس اثر کی سند میں انقطاع ہے، ابوبکر کا لقاء سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔ حوالہ اوپر گذر چکا ہے۔