کتب حدیثسنن دارميابوابباب: جن علماء نے یہ کہا : کہ مدبر صرف ثلث میں سے آزاد ہو گا
حدیث نمبر: 3305
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ الْأَشْعَثِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "الْمُدَبَّرُ مِنْ الثُّلُثِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: غلام مدبر (میت کے) صرف ثلث (ایک تہائی) میں سے آزاد ہو گا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3296 سے 3305)
غلام مدبر وہ غلام یا لونڈی ہے جس کو مالک نے کہا ہو کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو، اس کے احکام پیچھے گذر چکے ہیں، یہاں یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ میت کے تہائی مال سے ہی وہ غلام آزاد ہو گا چاہے کل ہو یا جزء۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3305
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف لضعف أشعث بن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 3316]
تخریج حدیث اشعث بن سوار کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 2514] ، [البيهقي 314/10، عن طريق على بن ظبيان وهو ضعيف]
حدیث نمبر: 3306
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْمُدَبَّرُ مِنْ الثُّلُثِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: مدبر تہائی مال سے آزاد ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3306
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3317]
تخریج حدیث اس اثر کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 1911] ، [ابن منصور 469]
حدیث نمبر: 3307
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "الْمُعْتَقُ عَنْ دُبُرٍ مِنَ الثُّلُثِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: موت کے بعد آزاد کیا جانے والا غلام تہائی مال سے آزاد ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3307
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3318]
تخریج حدیث اس اثر کی سند حسن رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 1908] ، [ابن منصور 473]
حدیث نمبر: 3308
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "الْمُعْتَقَةُ عَنْ دُبُرٍ وَوَلَدُهَا مِنْ الثُّلُثِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: مدبر لونڈی اور اس کا بچہ تہائی مال میں سے آزاد ہوں گے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3308
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3319]
تخریج حدیث یہ اثر صحیح ہے۔ تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 3309
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: مَنْصُورٌ أَخْبَرَنِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْمُعْتَقُ عَنْ دُبُرٍ مِنَ الثُّلُثِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: غلام مدبر میت کے تہائی مال سے آزاد ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3309
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3320]
تخریج حدیث اس اثر کی سند صحیح ہے۔ تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 3310
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيِّ، وَأَبِي هَاشِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْمُدَبَّرُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: غلام مدبرمیت کے پورے مال سے آزاد ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3310
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3321]
تخریج حدیث اس اثر کی سند میں ابوعبداللہ شقری ہیں، تستری محرف ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ تک اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 470]
حدیث نمبر: 3311
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: "الْمُعْتَقُ عَنْ دُبُرٍ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ" . سُئِلَ أَبُو مُحَمَّد: بِأَيِّهِمَا تَقُولُ ؟ قَالَ: مِنَ الثُّلُثِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: موت کے بعد آزاد ہونے والا غلام کل مال سے آزاد ہو گا، راوی نے کہا: امام ابومحمد دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ کی کیا رائے ہے؟ کہا: تہائی مال سے آزاد ہو گا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3305 سے 3311)
آخر کے دو قول یہ ہیں کہ مدبر پورے مال سے آزاد ہو گا، باقی تمام اقوال یہ ہیں کہ ثلث مال سے آزاد ہوگا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس قول کو ترجیح دی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی مال اور غلام چھوڑے جس کو مدبر کیا ہو، اگر اس کی قیمت ایک ثلث کے برابر ہو تو وہ آزاد ہو گا، اس سے زیادہ ہو تو بقدرِ ثلث آزاد ہوگا، اور باقی دو ثلث ورثاء میں تقسیم کر دیئے جائیں گے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3311
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3322]
تخریج حدیث اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ابوعوانہ: وضاح یشکری، اور ابوبشر: جعفر بن ایاس ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 1915] ، [ابن منصور 474]