حدیث نمبر: 3296
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ،"سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ أَوْصَى وَلَهُ أَخٌ مُوسِرٌ، أَيُوصِ لَهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَإِنْ كَانَ رَبَّ عِشْرِينَ أَلْفًا، ثُمَّ قَالَ: وَإِنْ كَانَ رَبَّ مِائَةِ أَلْفٍ، فَإِنَّ غِنَاهُ لَا يَمْنَعُهُ الْحَقَّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حمید سے مروی ہے، حسن رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کوئی آدمی اپنے مال دار بھائی کے لئے وصیت کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں کر سکتا ہے، چاہے وہ بھائی بیس ہزار کا مالک ہو، پھر کہا: یا ایک لاکھ کا مالک ہو، اس کی مال داری اس حق سے محروم نہ کرے گی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3295)
معلوم ہوا کہ وارث کی مالداری کے باوجود کسی بھی غیر وارث شخص کے لئے وصیت کی جا سکتی ہے۔
اور وہ وصیت کے اس مال کو مالدار ہونے کے باوجود لے سکتا ہے۔
معلوم ہوا کہ وارث کی مالداری کے باوجود کسی بھی غیر وارث شخص کے لئے وصیت کی جا سکتی ہے۔
اور وہ وصیت کے اس مال کو مالدار ہونے کے باوجود لے سکتا ہے۔