حدیث نمبر: 3275
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَهُوَ غَائِبٌ، فَلْيَقْبَلْ وَصِيَّتَهُ، وَإِنْ كَانَ حَاضِرًا، فَهُوَ بِالْخِيَارِ: إِنْ شَاءَ، قَبِلَ، وَإِنْ شَاء، َتَرَكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ کہتے تھے: کوئی آدمی کسی ایسے شخص کے لئے وصیت کرے جو غائب ہو تو اس کو وہ وصیت قبول کر لینی چاہیے، اور اگر وہ (موصی الیہ) موجود ہو تو اسے اختیار ہے چاہےتو قبول کر لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 3276
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ، وَمُحَمَّدًا عَنِ"الرَّجُلِ يُوصِي إِلَى الرَّجُلِ، قَالَا: نَخْتَارُ أَنْ يَقْبَلَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ایوب (السختیانی) سے مروی ہے کہ میں نے حسن اور محمد رحمہما اللہ سے پوچھا: کوئی آدمی کسی کے لئے وصیت کرے تو؟ دونوں نے کہا: اس کو وصیت قبول کر لینی چاہیے۔
حدیث نمبر: 3277
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْعَدَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَهُوَ غَائِبٌ، فَإِذَا قَدِمَ فَإِنْ شَاءَ، قَبِلَ، فَإِذَا قَبِلَ، لَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يَرُدَّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی کسی غائب آدمی کے لئے وصیت کرے اور وہ اسے قبول کر لے تو پھر اسے رد کرنے کا اختیار نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 3278
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْوَضَّاحُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ، فَعُرِضَتْ عَلَيْهِ الْوَصِيَّةُ، وَكَانَ غَائِبًا فَقَبِلَ، لَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی جب کسی کے لئے وصیت کرے اور وہ موجود نہ ہو پھر وہ وصیت اس کے لئے پیش کی جائے جس کو (موصی الیہ) قبول کر لے تو وصیت کرنے والے کو رجوع کرنے کا اختیار نہ ہو گا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3274 سے 3278)
جس شخص کو وصیت کی جائے اس کو قبول یا رد کرنے کا اختیار ہے، لیکن جب قبول کر لے تو پھر وصیت کرنے والا رجوع نہیں کر سکتا، کیوں کہ یہ دے کر پھر لوٹانے کے زمرے میں آئے گا جس کے لئے فرمانِ نبوی ہے: «اَلْعَائِدُ فِيْ هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُوْدُ فِيْ قَيْئِهِ. (وقانا اللّٰه منها)» ۔
جس شخص کو وصیت کی جائے اس کو قبول یا رد کرنے کا اختیار ہے، لیکن جب قبول کر لے تو پھر وصیت کرنے والا رجوع نہیں کر سکتا، کیوں کہ یہ دے کر پھر لوٹانے کے زمرے میں آئے گا جس کے لئے فرمانِ نبوی ہے: «اَلْعَائِدُ فِيْ هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُوْدُ فِيْ قَيْئِهِ. (وقانا اللّٰه منها)» ۔