حدیث نمبر: 3269
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْكَفَنُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: کفن (کا خرچ مرنے والے کے) تمام مال میں سے ہو گا۔
حدیث نمبر: 3270
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُعَاذٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَسَنِ: "فِي رَجُلٍ مَاتَ وَتَرَكَ قِيمَةَ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ، وَعَلَيْهِ مِثْلُهَا أَوْ أَكْثَرُ، قَالَ: يُكَفَّنُ مِنْهَا، وَلَا يُعْطَى دَيْنُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی فوت ہو گیا اور دو ہزار درہم چھوڑ گیا، اور اس پر اتنا ہی یا اس سے زیادہ قرض ہو، انہوں نے کہا: اس سے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جائے گا، اور قرض ادا نہ کیا جائے گا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3268 سے 3270)
میت پر اگر قرض ہے تو سب سے پہلے قرض ادا کرنا ضروری ہے، لیکن اگر اتنا مال نہ ہو کہ قرض ادا کیا جا سکے تو سب سے پہلے اس کے کفن دفن کا ہی انتظام کیا جائے گا، جیسا کہ حسن رحمہ اللہ نے فرمایا۔
میت پر اگر قرض ہے تو سب سے پہلے قرض ادا کرنا ضروری ہے، لیکن اگر اتنا مال نہ ہو کہ قرض ادا کیا جا سکے تو سب سے پہلے اس کے کفن دفن کا ہی انتظام کیا جائے گا، جیسا کہ حسن رحمہ اللہ نے فرمایا۔
حدیث نمبر: 3271
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَمَّنْ سَمِعَ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "يُبْدَأُ بِالْكَفَنِ، ثُمَّ الدَّيْنِ، ثُمَّ الْوَصِيَّةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ایسی صورت میں ابتداء کفن سے ہو گی، پھر (جو بچے اس سے) قرض ادا کیا جائے، اور اس کے بعد وصیت نافذ کی جائے۔
حدیث نمبر: 3272
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، أنبأنا سُفْيَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ: "فِي الْمَرْأَةِ تَمُوتُ، قَالَ: "تُكَفَّنُ مِنْ مَالِهَا، لَيْسَ عَلَى الزَّوْجِ شَيْءٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے: جو عورت فوت ہو جائے تو اس کے مال سے ہی اس کی تکفین ہوگی، شوہر پر اس کا بار نہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 3273
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "الْحَنُوطُ، وَالْكَفَنُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے کہا: حنوط اور کفن میت کے اصل مال سے ہو گا۔
حدیث نمبر: 3274
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "الْكَفَنُ مِنْ وَسَطِ الْمَالِ، يكفن على قدر ما كان يلبس في حياته، ثم يخرج الدين، ثم الثلث".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کفن (میت کے) مال سے ہی دیا جائے گا، اور جس طرح اپنی زندگی میں پہنتا تھا ویسا ہی کفن ہو گا، پھر قرض نکالا جائے گا، اور اس کے بعد تہائی مال کی وصیت نافذ کی جائے گی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3270 سے 3274)
میت کے ترکے کی اس ترتیب سے تقسیم ہوگی: پہلے کفن دفن کا انتظام، پھر جو بچے اس میں سے قرض ادا کیا جائے، اس کے بعد اگر کوئی وصیت ہے وہ جاری کی جائے گی، پھر ورثاء میں مال تقسیم کیا جائے گا۔
والله اعلم۔
میت کے ترکے کی اس ترتیب سے تقسیم ہوگی: پہلے کفن دفن کا انتظام، پھر جو بچے اس میں سے قرض ادا کیا جائے، اس کے بعد اگر کوئی وصیت ہے وہ جاری کی جائے گی، پھر ورثاء میں مال تقسیم کیا جائے گا۔
والله اعلم۔