کتب حدیثسنن دارميابوابباب: کوئی آدمی اپنے مال کے کچھ حصے کی کسی کے لئے وصیت کرے
حدیث نمبر: 3265
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ: "فِي الرَّجُلِ يُوصِي لِبَنِي فُلَانٍ، قَالَ: غَنِيُّهُمْ وَفَقِيرُهُمْ وَذَكَرُهُمْ وَأُنْثَاهُمْ سَوَاءٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی کسی کی اولاد کے لئے وصیت کرے تو اس وصیت میں مال دار، محتاج، مرد و عورت سب برابر ہوں گے۔ یعنی سب کو ثلث میں سے برابر کا حصہ دیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3265
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3276]
تخریج حدیث اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10803] ، [ابن منصور 366]
حدیث نمبر: 3266
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا أَوْصَى لِبَنِي فُلَانٍ، فَالذَّكَرُ وَالْأُنْثَى فِيهِ سَوَاءٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی کسی کی اولاد کے لئے وصیت کرے تو اس میں مرد و عورت سب برابر ہوں گے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3266
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف لضعف عمرو، [مكتبه الشامله نمبر: 3277]
تخریج حدیث عمرو کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری حسن سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 365]
حدیث نمبر: 3267
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ مُوسَى الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنِي سَيَّارُ بْنُ أَبِي كَرِبٍ: "أَنَّ آتِيًا أَتَى شُرَيْحًا، فَسَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ أَوْصَى بِسَهْمٍ مِنْ مَالِهِ، قَالَ: تُحْسَبُ الْفَرِيضَةُ، فَمَا بَلَغَ سِهَامَهَا، أُعْطِيَ الْمُوصَى لَهُ سَهْمًا كَأَحَدِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیار بن ابی کرب نے بیان کیا کہ ایک آدمی قاضی شریح کے پاس آیا اور اس نے سوال کیا: کوئی آدمی اپنے مال کے ایک حصہ کی وصیت کرے، تو انہوں نے کہا: یہ فریضہ میں شامل ہو گا، جتنے حصے ہوں اس میں سے ایک حصہ جس کے لئے وصیت کی ہے دیگر سہام کی طرح اس کو بھی دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3267
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3278]
تخریج حدیث اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10846] ، [ابن منصور 364] ۔ بعض نسخ میں «إن ثابتا آتی شريحا» ہے، جو تحریف ہے کیوں کہ مذکور بالا مصادر میں «إن آتيا» اور «إن رجلا آتی شريحا» کی صراحت ہے۔