حدیث نمبر: 3254
أخبرنا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ . ح وأَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: "إِذَا شَهِدَ شَاهِدَانِ مِنْ الْوَرَثَةِ، جَازَ عَلَى جَمِيعِهِمْ، وَإِذَا شَهِدَ وَاحِدٌ، فَفِي نَصِيبِهِ بِحِصَّتِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مغیرہ اور ابراہیم رحمہما اللہ نے کہا: اگر وارثین میں سے دو (میت پر قرض یا وصیت کی) شہادت دیں تو تمام وارثین پر وہ جائز ہوگا، اور اگر صرف ایک وارث شاہد ہو تو اس کے حصہ و نصیب میں سے (اس قرض یا وصیت کی) ادائیگی ہو گی۔
حدیث نمبر: 3255
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ: أَنَّهُ سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: "إِذَا شَهِدَ رَجُلٌ مِنْ الْوَرَثَةِ، فَفِي نَصِيبِهِ بِحِصَّتِهِ، ثُمَّ قَالَ: بَعْدَ ذَلِكَ فِي جَمِيعِ حِصَّتِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر وارثین میں سے کوئی ایک آدمی شہادت دے تو اس کے حصہ میں سے ادائیگی ہو گی، اخیر میں کہا: تمام وارثین کے حصہ میں سے ادائیگی ہو گی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3252 سے 3255)
سنن سعید بن منصور اور ابن ابی شیبہ میں صراحت ہے کہ ایک وارث اگر میت پر قرض کا اقرار کر لے تو صرف اسی کے حصہ میں سے قرض ادا کیا جائے گا، اور اگر دو مرد یا ایک مرد ایک عورت اقرار کر لیں تو میت کے کل مال میں سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا پھر سب وارثین کو حصے تقسیم ہوں گے۔
سنن سعید بن منصور اور ابن ابی شیبہ میں صراحت ہے کہ ایک وارث اگر میت پر قرض کا اقرار کر لے تو صرف اسی کے حصہ میں سے قرض ادا کیا جائے گا، اور اگر دو مرد یا ایک مرد ایک عورت اقرار کر لیں تو میت کے کل مال میں سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا پھر سب وارثین کو حصے تقسیم ہوں گے۔